بھٹکل:24/ فروری (ایس اؤنیوز)سرکاری اسکولوں میںگرم کھانا تیارکرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کامطالبہ لےکر کرناٹکا اکشر داسوہا ملازمین سنگھا نے آج سنیچر کو بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر دفتر کے باہر احتجاج کیا اوراے سی کے توسط سے حکومت کے نام میمورنڈم پیش کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو کے اہم لیڈر سبھاش کوپیکر نے بتایا کہ ریاستی حکومت 2017میں دو مرتبہ ہماری کرناٹک اکثرداسوہا کے لیڈران کے ساتھ میٹنگ ہوئی تھی جس میں حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن حکومت نے ابھی تک اپنا وعدہ پورانہیں کیاہے اور ہمارے مطالبات کو نظر انداز کررہی ہے۔
سبھاش کوپیکر نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ مودی حکومت نے دوپہر کا گرم کھانا منصوبہ کے امداد میں کمی کی ہے ۔ گذشتہ 2011سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہواہے، اس کے برعکس مرحلہ وار پرائیویٹ کمپنیوں کو کام سونپتے نئے پکوان مراکز کی شروعات کرنے کی تیار ی میں جٹ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ 8فروری کو بنگلورو میں کھانا تیارکرنے والے ملازمین کااحتجاج ہوا تھا جس میں حکومت کی طرف سے یقینی دہانی کرائی گئی تھی کہ تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس کے بعد ہی احتجاج کو ختم کیا گیا تھا۔ مگر ابھی تک اُن وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔
بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر منجوناتھ نے میمورنڈم وصول کیا۔ اس موقع پر گیتا نائک، نیتراوتی نائک، چندرکلا نائک، ممتا نائک، ساویتری نائک، لکشمی نائک، رکمنی نائک وغیرہ موجود تھے۔